مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عراقی حکومت کے ترجمان حیدر العبودی نے اعلان کیا ہے کہ وزیراعظم علی الزیدی نے 30 ستمبر کے بعد بین الاقوامی اتحاد کے بعض فوجیوں کی عراق میں موجودگی جاری رکھنے کی تجویز مسترد کردی ہے۔
العبودی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ عراقی حکومت خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور عراق کسی بھی تنازع کا حصہ نہیں بنے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی اتحاد کے فوجیوں کے انخلا اور ان کے فوجی اڈوں اور ٹھکانوں کو عراقی فورسز کے حوالے کرنے کے لیے رابطہ کاری کا عمل جاری ہے۔
عراقی حکومت کے ترجمان نے مزید کہا کہ حکومت ملک میں اسلحے کی عمل داری کو ریاست تک محدود کرنے، اسے منظم کرنے اور فیصلہ سازی کو یکجا کرنے سے متعلق اقدامات مکمل کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلح گروہوں کے ساتھ مذاکرات مثبت انداز میں جاری ہیں اور یہ معاملہ 30 ستمبر سے قبل مکمل کرلیا جائے گا۔ ان کے بقول یہ عمل باہمی تعاون اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر ایک عبوری مرحلہ ہوگا۔
العبودی نے انسدادِ بدعنوانی کے حوالے سے کہا کہ حکومت بدعنوانی کے ذرائع کا خاتمہ کرنے کے لیے ملزمان کے خلاف کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ عدالتی احکامات آزادانہ فیصلے اور ریاست کے بنیادی ستونوں میں سے ایک ہیں اور بدعنوانی کے خلاف جنگ میں ان کے نتائج واضح طور پر سامنے آ رہے ہیں۔
عراقی حکومت کے ترجمان نے مزید کہا کہ بدعنوانی کے خلاف جنگ کے لیے باقی ماندہ معیار اور اقدامات کئی برس سے مکمل نہیں کیے گئے تھے۔
آپ کا تبصرہ